بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سلامتی کا جو نظام واشنگٹن نے کئی دہائیوں تک جنوب مغربی ایشیا کے خطے پر مسلط کرنے کے لئے تعمیر کیا تھا، اب ایران کی نئی تسدیدی طاقت کے سامنے ایک تزویراتی تعطل سے دوچار ہے۔ امریکی سمندری ہتھیاروں کو نشانہ بنانے میں ایران کی فوجی کامیابی، روایتی بحری تسلط سے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے تسلط کے دور میں ایک تکنیکی منتقلی کی مانند ہے، جس نے طاقت کا توازن امریکہ کے نقصان میں، بدل دیا ہے، جس نے خود اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔
چوتھی اور آخری قسط:
سوال کیا گیا کہ کیا ایران کی حالیہ حکمت عملی فوجی قوتوں کے کنٹرول اور ساتھ ہی کشیدگی بڑھانے کے حق کے تحفظ میں مایوسی کی علامت ہے یا ایک ردعمل دکھانے والی (Reactive Power) طاقت سے ایک فعال تسدیدی طاقت (Deterrent power) کی طرف منتقلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کو بخوبی معلوم ہے کہ اسے آبنائے ہرمز میں اپنے تزویراتی اہداف کیسے آگے بڑھانا ہیں؟ تو کرنل ویلکرسن (کرنل لارنس ویلکرسن (Col. Lawrence Wilkerson) نے کہا: "ایران ایک وسیع پیمانے پر ہمہ جہت جنگ میں مصروف ہے؛ یہ کسی عام ایرانی شہری سے پوچھ لیں۔ مہنگائی بہت زیادہ ہے اور بم اسپتالوں، اسکولوں، پانی کی تنصیبات، توانائی کمپلیکسوں، پلوں، شاہراہوں اور ہزاروں انسانی اہداف پر گر رہے ہیں۔ سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور، مثلاً، [ویلکرسن کے دعوے کے مطابق] اگر چین کی مدد نہ ہوتی تو تہران کے ایک عام شہری کی زندگی بہت مشکل ہو جاتی۔
تاہم، ایران نے کشیدگی بڑھانے کی سیڑھی میں پہل کی پوزیشن اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور اس کے آخری زینے، یعنی جوہری ہتھیاروں کے سوا، کشیدگی بڑھانے کے میدان میں برتری رکھتا ہے۔ البتہ مجھے قوی گمان ہے کہ ایران کے پاس اس وقت کئی جوہری ہتھیار موجود ہیں؛ لیکن سامراج کے پاس اس قسم کے 5000 سے زیادہ ہتھیار ہیں۔ لہٰذا، اگرچہ ایران کے پاس ایسے ہتھیار کا ہونا اسرائیل کی مکمل تباہی کا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن اس کا سامراج کے خلاف استعمال ایک غیر معقول اقدام ہوگا۔
بہر حال، روایتی جنگی میدان میں، ایران جیت رہا ہے اور جی ہاں، اس فتح کا ایک حصہ آبنائے ہرمز پر ایران کا جغرافیائی کنٹرول ہے۔"
آبنائے ہرمز اور امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ
ایران کا عزم یہی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا جب تک کہ سامراج گھر واپس نہیں چلا جاتا۔
سوال ہؤا ـ کہ کیا امریکی اعلیٰ مشیروں کے اس اعتراف کے پیش نظر کہ مشترکہ اقتصادی اور فوجی ـ دباؤ تہران کے رویئے کو بدلنے میں ناکام ہو چکا ہے، کیا واشنگٹن کو اس تزویراتی تعطل سے نکلنے کے لئے خطے میں ایک نئی حقیقت قبول کرنا پڑے گا؟
ویلکرسن نے جواب دیا: "جی ہاں، امریکی سامراج کو ناچار ہو کر "خلیج فارس تعاون کونسل" کے چھوٹے ہونے پر آمادہ ہونا پڑے گا؛ شاید اس کو حتیٰ کہ اس کونسل کے انہدام، اور حتیٰ کہ اس کے بعض رکن ممالک، جیسے بحرین، قطر، کویت اور امارات اور ممکنہ طور پر سعودی عرب، کی شکست قبول کرنا پڑے، جو اسی وقت بھی ـ جب میں ان سوالات کا جواب دے رہا ہوں ـ انصاراللہ سے شکست کھا رہے ہیں۔ سامراج کے پاس اب خطے میں دوبارہ فوجی مداخلت، نئے اتحادی بنانے یا پرانے اتحادیوں کو زندہ اور بحال کرنے اور کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قبضے کی صلاحیت نہیں ہے۔ لہٰذا، میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ یہ جنوب مغربی ایشیا کے خطے میں امریکی سامراج کی میدانی اور فوجی موجودگی کا خاتمہ ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ